صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۴ - مصعب بن عمیر کا سادہ کفن
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا کفن: دنیا کی کشادگی پر خوف
صحیح بخاری : ۱۲۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۷۴
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا بِطَعَامِهِ , فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ ، وَقُتِلَ حَمْزَةُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا ، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي " .
ابراہیم بن عبدالرحمٰن روایت:
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (غزوہ احد میں) شہید ہوئے ‘ وہ مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز مہیا نہ ہو سکی۔ اسی طرح جب حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے یا کسی دوسرے صحابی کا نام لیا ‘ وہ بھی مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے بھی صرف ایک ہی چادر مل سکی۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے چین اور آرام کے سامان ہم کو جلدی سے دنیا ہی میں دے دئیے گئے ہوں پھر وہ رونے لگے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے دل کا حال بیان ہوا ہے۔ ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو انہوں نے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو یاد کیا، جو ان کے بقول ان سے افضل تھے، مگر ان کے کفن کے لیے ایک چادر کے سوا کچھ نہ ملا۔ پھر انہوں نے حمزہ رضی اللہ عنہ یا کسی اور افضل صحابی کا ذکر کیا کہ ان کے لیے بھی صرف ایک چادر ملی۔ اس کے بعد انہیں یہ خوف ہوا کہ کہیں دنیا کے آرام اور نعمتیں جلدی ہی نہ دے دی گئی ہوں، پھر وہ رونے لگے۔ اس حدیث کا موضوع مصعب بن عمیر کا کفن، دنیا کی کشادگی اور آخرت کا احساس ہے۔ متن میں یہ بات بہت نرم مگر اثر انگیز انداز سے آتی ہے کہ صحابہ نعمت ملنے پر بھی اپنے انجام کے بارے میں فکر مند رہتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنیا کی نعمتوں پر بھی آخرت کو یاد رکھتے تھے۔
- مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے سادہ کفن کا ذکر عاجزی پیدا کرتا ہے۔
- عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنے سے افضل لوگوں کو یاد کیا۔
- دنیا کی کشادگی کو بے فکری کا سبب نہیں بنایا گیا۔
