صحیح بخاری حدیث ۵۸۱۶ - قبر اور سجدہ گاہ کی تنبیہ

قبروں کو عبادت گاہ بنانے سے بچنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۱۶

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا ، قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا " .

عائشہ اور عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی کملی چہرہ مبارک پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں فرماتے ”یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہو گئے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عمل بد سے (مسلمانوں کو) ڈرا رہے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۸۱۶ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی اہم تنبیہ کو بیان کرتی ہے کہ قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری بیماری میں چہرے پر کملی ڈالتے تھے اور تکلیف بڑھتی تو اسے ہٹا لیتے تھے۔ اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و نصاریٰ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو ان کے عمل سے ڈرا رہے تھے۔ اس حدیث میں قبر پر مسجد، سجدہ گاہ، انبیاء کی قبریں، اور آخری مرض کی حدیث جیسے موضوعات صاف طور پر موجود ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آخری بیماری میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی رہنمائی فرمائی۔
  • قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے بچنے کی تنبیہ کی گئی۔
  • حدیث میں ایک خاص عمل کے خطرے سے ڈرایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں