صحیح بخاری حدیث ۵۸۶۶ - نبوی انگوٹھی اور نقش محمد رسول اللہ

نبوی انگوٹھی کی حدیث: محمد رسول اللہ کا نقش اور صحابہ کا عمل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۶۶

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ مِثْلَهُ ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ ، وَقَالَ : " لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا " ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الْفِضَّةِ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَلَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ ، حَتَّى وَقَعَ مِنْ عُثْمَانَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے یا چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا اور اس پر «محمد رسول الله‏.‏» کے الفاظ کھدوائے پھر دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس طرح کی انگوٹھیاں بنوا لی تو آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس انگوٹھی کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنا پھر عمر رضی اللہ عنہ اور پھر عثمان نے پہنا۔ آخر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ انگوٹھی اریس کے کنویں میں گر گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۸۶۶ کا خلاصہ

یہ حدیث نبوی انگوٹھی کے بارے میں بہت واضح بات بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سونے یا چاندی کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، اور اس پر «محمد رسول الله» کندہ تھا۔ جب لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی اور فرمایا کہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ اس روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ یہی انگوٹھی بعد میں ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پاس رہی، یہاں تک کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اریس کے کنویں میں گر گئی۔ اس لیے اس حدیث کا اصل سبق نبوی انگوٹھی، چاندی کی انگوٹھی، نقش محمد رسول اللہ، اور آپ صلى الله عليه وسلم کی پیروی سے متعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا۔
  • آپ صلى الله عليه وسلم کی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» کا نقش تھا۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی کرتے تھے۔
  • یہ انگوٹھی بعد میں خلفائے راشدین کے پاس بھی رہی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں