صحیح بخاری حدیث ۵۸۶۷ - سونے کی انگوٹھی چھوڑنے کا نبوی عمل
سونے کی انگوٹھی کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم نے انگوٹھی پھینک دی
صحیح بخاری : ۵۸۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۶۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَنَبَذَهُ ، فَقَالَ : " لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا " ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حرمت سے پہلے) سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے پھر حرمت کا حکم آنے پر آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ میں اب سے کبھی نہیں پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث سونے کی انگوٹھی کے بارے میں مختصر مگر بہت مؤثر بیان ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پہلے سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے۔ پھر جب حرمت کا حکم آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ میں اب سے کبھی نہیں پہنوں گا۔ اس کے بعد لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جب ایک چیز چھوڑنے کا اعلان فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اسی وقت اس پر عمل کیا۔ یہاں سونے کی انگوٹھی، حرمت کے بعد اسے ترک کرنا، اور سنت کی پیروی کا پہلو صاف نظر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حرمت کے حکم کے بعد سونے کی انگوٹھی چھوڑ دی۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے صاف فرمایا کہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلى الله عليه وسلم کے عمل کی پیروی کی۔
- دین کا حکم معلوم ہو جائے تو اسے ماننے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
