صحیح بخاری حدیث ۵۸۷۱ - لوہے کی انگوٹھی بھی مہر ہو سکتی ہے
نکاح اور مہر کی حدیث: لوہے کی انگوٹھی اور قرآن کا ذکر
صحیح بخاری : ۵۸۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۷۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا ، يَقُولُ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : جِئْتُ أَهَبُ نَفْسِي ، فَقَامَتْ طَوِيلًا فَنَظَرَ وَصَوَّبَ ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ ، قَالَ : " عِنْدَكَ شَيْءٌ تُصْدِقُهَا ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : انْظُرْ ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ شَيْئًا ، قَالَ : " اذْهَبْ فَالْتَمِسْ ، وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، فَقَالَ : أُصْدِقُهَا إِزَارِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِزَارُكَ إِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ ، وَإِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ " فَتَنَحَّى الرَّجُلُ فَجَلَسَ ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ ، فَقَالَ : " مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " قَالَ : سُورَةُ كَذَا وَكَذَا لِسُوَرٍ عَدَّدَهَا ، قَالَ : " قَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
سہل روایت:
ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں، دیر تک وہ عورت کھڑی رہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور پھر سر جھکا لیا جب دیر تک وہ وہیں کھڑی رہیں تو ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کیا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو مہر میں انہیں دے سکو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھ لو۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ واللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تلاش کرو، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ وہ مجھے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔وہ ایک تہمد پہنے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر (کرتے کی جگہ) چادر بھی نہیں تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں انہیں اپنا تہمد مہر میں دے دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارا تہمد یہ پہن لیں گی تو تمہارے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر تم اسے پہن لو گے تو ان کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔وہ صاحب اس کے بعد ایک طرف بیٹھ گئے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ انہوں نے سورتوں کو شمار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کے عوض میں دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۷۱ کا خلاصہ
یہ حدیث نکاح اور مہر کے بارے میں ایک معروف واقعہ بیان کرتی ہے۔ ایک عورت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں آئی۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر آپ صلى الله عليه وسلم کو ضرورت نہیں تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تلاش کرو، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ کچھ نہ پا سکے، یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ انہوں نے اپنا تہمد دینے کی بات کی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ اگر وہ اسے پہنیں گی تو تمہارے لیے کچھ نہیں رہے گا، اور اگر تم پہنو گے تو ان کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ تمہیں قرآن کتنا یاد ہے۔ انہوں نے کچھ سورتیں بتائیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کے عوض دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کا سوال نبی صلى الله عليه وسلم نے خود کیا۔
- مہر کے لیے لوہے کی انگوٹھی تک تلاش کرنے کو فرمایا گیا۔
- آدمی کے پاس مال نہ تھا، پھر بھی قرآن یاد ہونے کا ذکر ہوا۔
- نکاح کے معاملے میں سادگی اور ذمہ داری دونوں باتیں سامنے آتی ہیں۔
