صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۲ - ہار گم ہونے پر تیمم کی آیت نازل ہوئی
تیمم کی آیت والی حدیث: ہار گم ہوا، پانی نہ ملا، حکم نازل ہوا
صحیح بخاری : ۵۸۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۸۲
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " هَلَكَتْ قِلَادَةٌ لِأَسْمَاءَ ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهَا رِجَالًا ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً ، فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ " ، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ .
عائشہ روایت:
اسماء رضی اللہ عنہا کا ہار (جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عاریت پر لیا تھا) گم ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا اسی دوران میں نماز کا وقت ہو گیا اور لوگ بلا وضو (وضو کے بغیر) تھے چونکہ پانی بھی موجود نہیں تھا، اس لیے سب نے بلا وضو نماز پڑھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ہار انہوں نے اسماء سے عاریتاً لیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا، جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عاریت پر لیا تھا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے چند صحابہ کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ اسی دوران نماز کا وقت آ گیا۔ لوگ وضو میں نہیں تھے اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے بغیر وضو نماز پڑھی، پھر نبی صلى الله عليه وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا، تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع تیمم کی آیت، پانی نہ ملنے کی حالت، اور نماز کے وقت کا معاملہ ہے۔ اس میں ہار کے گم ہونے کا سبب بھی بیان ہوا ہے۔ اس روایت کو سمجھاتے ہوئے یہ کہنا درست ہے کہ ایک مشکل صورت پیش آئی، پانی نہ ملا، نماز کا وقت آ گیا، اور پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہار گم ہونے پر صحابہ کو تلاش کے لیے بھیجا گیا۔
- نماز کا وقت آیا تو پانی موجود نہیں تھا۔
- لوگوں نے اپنی حالت نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے بیان کی۔
- اس واقعے کے بعد تیمم کی آیت نازل ہوئی۔
