صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۱ - عیدالفطر کی دو رکعت اور صدقہ
عیدالفطر کی نماز کی حدیث: دو رکعت، پھر صدقہ کی ترغیب
صحیح بخاری : ۵۸۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۸۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تَصَدَّقُ بِخُرْصِهَا وَسِخَابِهَا " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن (آبادی سے باہر) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں اور خوشبو اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عیدالفطر کے دن باہر تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ عورتیں اپنی بالیاں، خوشبو، اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔ اس حدیث کا موضوع عید کی نماز اور صدقہ ہے۔ اس میں عید کی نماز کے ساتھ ایک عملی منظر بھی بیان ہوا ہے کہ عورتوں نے اپنی چیزیں صدقہ میں پیش کیں۔ اس روایت کو سمجھتے ہوئے اصل بات یہی ہے کہ عید کے دن نماز ہوئی، پھر صدقہ کی ترغیب دی گئی، اور عورتوں نے اپنے زیور اور خوشبو کی چیزیں پیش کیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عیدالفطر کے دن دو رکعت نماز پڑھائی گئی۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے عید کی نماز سے پہلے اور بعد نفل نہیں پڑھے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا۔
- عورتوں نے بالیاں اور خوشبو کے ہار صدقہ میں دیے۔
