صحیح بخاری حدیث ۵۸۹۰ - جسمانی صفائی

جسمانی صفائی اور سنن فطرت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۹۰

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنَ الْفِطْرَةِ حَلْقُ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”موئے زیر ناف مونڈنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کترانا پیدائشی سنتیں ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۵۸۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع جسمانی صفائی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موئے زیر ناف مونڈنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کترانا فطرت میں سے ہیں۔ اس روایت میں تین صاف اور عملی کام بیان ہوئے ہیں۔ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اسلام انسان کو صرف عبادت کے وقت نہیں، بلکہ روزانہ زندگی میں بھی صاف رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ناخن بڑھا لینا، مونچھ کو بے ترتیب چھوڑ دینا یا غیر ضروری بالوں کی صفائی سے غفلت کرنا شائستہ طرز زندگی کے خلاف ہے۔ سنن فطرت کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صفائی ایک مستقل عادت ہے، کبھی کبھار کا کام نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زیر ناف صفائی کو فطرت میں سے بتایا گیا ہے۔
  • ناخن تراشنا روزمرہ صفائی کا اہم حصہ ہے۔
  • مونچھ کترانا مسلمان کے ظاہری آداب میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں