صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۸ - مونچھ

مونچھ کترانا سنن فطرت میں سے ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۸۸

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ نَافِعٍ . ح قَالَ أَصْحَابُنَا ، عَنِ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مونچھ کے بال کتروانا پیدائشی سنت ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع مونچھ کترانا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مونچھ کے بال کتروانا فطرت میں سے ہے۔ حدیث بہت مختصر ہے مگر اس کا پیغام واضح ہے۔ اسلام صفائی، سادگی اور جسمانی آداب کو پسند کرتا ہے۔ مونچھ لمبی چھوڑنے کے بجائے اسے کترانا سنن فطرت میں شامل کیا گیا ہے۔ یہاں فطرت سے مراد وہ صاف ستھرے طریقے ہیں جنہیں انسان کی پاکیزہ طبیعت بھی اچھا سمجھتی ہے اور شریعت بھی ان کی رہنمائی کرتی ہے۔ اس لیے مونچھ کترانے کی حدیث صرف ظاہری شکل کی بات نہیں، بلکہ مسلمان کی روزمرہ صفائی اور سنت سے تعلق کی یاد دہانی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مونچھ کے بال کترانا فطرت میں سے ہے۔
  • اسلام روزمرہ صفائی کے چھوٹے کاموں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔
  • مسلمان کو اپنے ظاہری آداب میں بھی سنت کی رہنمائی اختیار کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں