صحیح بخاری حدیث ۵۸۹۲ - داڑھی مونچھ
داڑھی چھوڑنے اور مونچھ کترانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۸۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۹۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ ، وَفِّرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی (ہاتھ سے) پکڑ لیتے اور (مٹھی) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع داڑھی مونچھ ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ کے وقت اپنی داڑھی پکڑتے اور جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کتروا دیتے۔ اس حدیث میں اصل حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے: داڑھی بڑھانا اور مونچھ کم کرنا۔ اسی لیے داڑھی کی حدیث، مونچھ کترانے کی حدیث اور اسلامی حلیہ کے موضوع پر یہ روایت بہت زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔ یہاں مسلمان کو اپنی ظاہری پہچان میں بھی دینی ہدایت کا خیال رکھنے کی تعلیم ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی چھوڑنے کا حکم دیا۔
- مونچھیں کتروانا اس روایت میں واضح طور پر آیا ہے۔
- مسلمان کو اپنے ظاہری انداز میں بھی دینی فرق کا خیال رکھنا چاہیے۔
