صحیح بخاری حدیث ۵۹۰۲ - عیسیٰ و دجال
عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کی پہچان والی حدیث
صحیح بخاری : ۵۹۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۰۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً ، مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، وَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کعبہ کے پاس مجھے دیکھایا گیا، میں نے دیکھا کہ ایک صاحب ہیں گندمی رنگ، گندمی رنگ کے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، ان کے شانوں تک لمبے لمبے بال ہیں ایسے بال والے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، انہوں نے بالوں میں کنگھا کر رکھا ہے اور اس کی وجہ سے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں یا دو آدمیوں کے شانوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں پھر اچانک میں نے ایک الجھے ہوئے گھونگھریالے بال والے شخص کو دیکھا، دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا انگور ہے جو ابھرا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کانا کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع عیسیٰ و دجال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کعبہ کے پاس آپ کو دکھایا گیا۔ آپ نے ایک گندمی رنگ کے خوبصورت صاحب کو دیکھا، ان کے بال شانوں تک تھے، کنگھا کیے ہوئے تھے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور وہ دو آدمیوں کا سہارا لیے طواف کر رہے تھے۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور شخص کو دیکھا جس کے بال الجھے ہوئے گھونگھریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا تھا، اور آنکھ ابھرے ہوئے انگور جیسی تھی۔ بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ اس حدیث میں پہچان کے اوصاف بیان ہوئے ہیں، اس لیے اسے دجال کی حدیث اور عیسیٰ علیہ السلام کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے ظاہری اوصاف بیان ہوئے ہیں۔
- مسیح دجال کی دائیں آنکھ کے بارے میں واضح نشانی ذکر ہوئی ہے۔
- واقعہ خواب میں کعبہ کے پاس دکھائے جانے کے طور پر بیان ہوا ہے۔
