صحیح بخاری حدیث ۵۹۰۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کے موئے مبارک اور حلیہ
حلیہ نبوی: نبی صلى الله عليه وسلم کے موئے مبارک اور بھرے ہوئے ہاتھ
صحیح بخاری : ۵۹۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۰۶
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْيَدَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَكَانَ شَعَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا لَا جَعْدَ وَلَا سَبِطَ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ جیسا (خوبصورت کوئی آدمی) نہیں دیکھا آپ کے سر کے بال میانہ تھے نہ گھونگھریالے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے جسمانی اوصاف کو بہت محبت اور سادگی سے بیان کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، یعنی ہاتھوں میں مضبوطی اور وقار محسوس ہوتا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے بعد انہوں نے آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ اس میں نبی صلى الله عليه وسلم کے حسن، وقار اور منفرد حلیہ کا ذکر ہے۔ حدیث میں موئے مبارک کا انداز بھی بتایا گیا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے، بلکہ درمیانی انداز کے تھے۔ حلیہ نبوی، نبی صلى الله عليه وسلم کے بال، اور شمائل مصطفیٰ جیسے موضوعات اسی حدیث سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس روایت کا مقصد محبت کے ساتھ آپ صلى الله عليه وسلم کی ظاہری صفات کو محفوظ کرنا ہے، نہ کہ اس سے کوئی زائد حکم نکالنا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے حلیہ کو محبت سے یاد رکھتے تھے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے موئے مبارک درمیانی انداز کے تھے، نہ بہت گھونگھریالے نہ بالکل سیدھے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ میں بیان ہوا۔
- حلیہ نبوی کا ذکر ادب اور محبت کے ساتھ کرنا چاہیے۔
