صحیح بخاری حدیث ۵۹۲ - فجر سے پہلے اور عصر کے بعد دو رکعت

دو رکعتیں جنہیں نبی کریم صلى الله عليه وسلم ترک نہ فرماتے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۲

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُهُمَا سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً ، رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ " .

عائشہ روایت:

دو رکعتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں فرمایا، پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔

صحیح بخاری حدیث ۵۹۲ کا خلاصہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کو پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، کبھی ترک نہیں فرماتے تھے: صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتیں اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں۔ یہ حدیث دو الگ اوقات کا ذکر کرتی ہے، اس لیے اس کا مطلب سمجھتے وقت دونوں کو الگ الگ دیکھنا چاہیے۔ صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ایک معروف عمل کے طور پر روایت میں آئی ہیں، اور عصر کے بعد دو رکعتیں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان میں ذکر ہوئیں۔ یہاں اصل توجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پابند عمل پر ہے۔ فجر کی سنت اور عصر کے بعد دو رکعت کے بارے میں یہ روایت سادہ مگر اہم بیان دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتوں کا ذکر ہے۔
  • عصر کی نماز کے بعد دو رکعتوں کا ذکر بھی روایت میں آیا ہے۔
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوشیدہ اور علانیہ دونوں حالتوں کا ذکر کیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات صحابہ نے محفوظ کیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں