صحیح بخاری حدیث ۵۹۴۱ - خسرے کے بعد بال جھڑنے کا مسئلہ

خسرے کے بعد بال جھڑ جائیں تو مصنوعی بال لگانے کا سوال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۴۱

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَامَّرَقَ شَعَرُهَا وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا ، أَفَأَصِلُ فِيهِ ؟ فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ " .

اسماء بنت ابوبکر روایت:

ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہو گیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۹۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک عورت نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ بیٹی کو خسرے کا بخار ہوا، اس سے اس کے بال جھڑ گئے، اور اس کی شادی بھی ہو چکی ہے۔ عورت نے سوال کیا کہ کیا وہ اس میں مصنوعی بال لگا دے؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگائے جائیں، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اس روایت میں بیماری کا نام بھی آیا ہے، یعنی خسرہ، اور شادی کا ذکر بھی ہے۔ پھر بھی جواب بال جوڑنے کی ممانعت پر ہے۔ اس لیے “خسرے سے بال جھڑنے کی حدیث” اور “مصنوعی بال لگوانے والی” اس روایت کے مضبوط سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں خسرے کے بعد بال جھڑنے کی صورت بیان ہوئی ہے۔
  • شادی ہو جانے کے باوجود مصنوعی بال لگانے کا جواب ممانعت کے ساتھ آیا۔
  • لگانے والی اور جس کے لگائے جائیں، دونوں کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں