صحیح بخاری حدیث ۵۹۶۶ - ایک سواری پر بیٹھنے کے آداب
ایک سواری پر تین افراد کی حدیث اور سواری کے آداب
صحیح بخاری : ۵۹۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۶۶
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ذُكِرَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ عِنْدَ عِكْرِمَةَ ، فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَمَلَ قُثَمَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْفَضْلَ خَلْفَهُ ، أَوْ قُثَمَ خَلْفَهُ وَالْفَضْلَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَيُّهُمْ شَرٌّ أَوْ أَيُّهُمْ خَيْرٌ " .
ایوب سختیانی روایت:
عکرمہ کے سامنے یہ ذکر آیا کہ تین آدمی جو ایک جانور پر چڑھیں اس میں کون بہت برا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ مکرمہ) تشریف لائے تو آپ قثم بن عباس کو اپنی سواری پر آگے اور فضل بن عباس کو پیچھے بٹھائے ہوئے تھے۔ یا قثم پیچھے تھے اور فضل آگے تھے (رضی اللہ عنہم) اب تم ان میں سے کسے برا کہو گے اور کسے اچھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سواری کے آداب اور کسی عمل پر جلدی حکم لگانے سے بچنا ہے۔ عکرمہ کے سامنے ذکر ہوا کہ ایک جانور پر تین آدمی سوار ہوں تو ان میں کون زیادہ برا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا عمل بیان کیا کہ آپ مکہ تشریف لائے تو قثم بن عباس اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم میں سے ایک کو آگے اور دوسرے کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ اس جواب سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ صرف ظاہری صورت دیکھ کر کسی کو برا نہیں کہنا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ معاملہ کس حال میں ہے، سواری برداشت کر رہی ہے یا نہیں، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں نرم مزاجی، احتیاط اور آداب سفر کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی عمل پر حکم لگانے سے پہلے نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو دیکھنا چاہیے۔
- سواری کے معاملے میں جلد بازی سے کسی کو برا کہنا درست انداز نہیں۔
- دینی بات سمجھانے کے لیے مثال دینا مؤثر طریقہ ہے۔
- ظاہری صورت دیکھ کر لوگوں کے بارے میں سخت فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
