صحیح بخاری حدیث ۵۹۶۷ - اللہ کا حق اور بندوں کا حق
اللہ کا حق کیا ہے؟ توحید کی اہم حدیث
صحیح بخاری : ۵۹۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۶۷
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا أَخِرَةُ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوهُ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
معاذ بن جبل روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں تھی اسی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یامعاذ! میں بولا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، آپ کی اطاعت اور فرمابرداری کے لیے تیار ہوں۔ پھر آپ نے تھوڑی دیر تک چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا: یا معاذ! میں بولا، یا رسول اللہ! حاضر ہوں آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اس کے بعد فرمایا: یا معاذ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں، یا رسول اللہ! آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم ہے اللہ کے اپنے بندوں پر کیا حق ہیں؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر حق یہ ہیں کہ بندے خاص اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے۔اس کے بعد فرمایا: معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔ جب کہ وہ یہ کام کر لیں۔ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ پھر بندوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث توحید کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں محبت بھرے انداز میں بار بار پکارا، پھر پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے ادب سے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جب بندے یہ کریں تو بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے۔ اس حدیث میں عبادت، شرک سے بچنا، اور اللہ کے ساتھ بندگی کا رشتہ صاف الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔
- شرک سے بچنا بندگی کی بنیاد ہے۔
- دینی علم سکھاتے وقت نرمی اور محبت کا انداز اختیار کیا جا سکتا ہے۔
- جو بات معلوم نہ ہو اس میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف علم لوٹانا ادب ہے۔
