صحیح بخاری حدیث ۵۹۶۸ - سفر سے واپسی کی دعا
سفر سے واپسی کی دعا: آیبون تائبون عابدون
صحیح بخاری : ۵۹۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۶۸
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ يَسِيرُ ، وَبَعْضُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَثَرَتِ النَّاقَةُ ، فَقُلْتُ : الْمَرْأَةَ ، فَنَزَلْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا أُمُّكُمْ ، فَشَدَدْتُ الرَّحْلَ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَنَا أَوْ رَأَى الْمَدِينَةَ قَالَ : آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .
انس بن مالک روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے واپس آ رہے تھے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور چل رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں کہ اچانک اونٹنی نے ٹھوکر کھائی، میں نے کہا عورت کی خبرگیری کرو پھر میں اتر پڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری ماں ہیں پھر میں نے کجاوہ مضبوط باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے پھر جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے یا (راوی نے بیان کیا کہ) مدینہ منورہ دیکھا تو فرمایا ”ہم واپس ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں، اسی کو پوجنے والے ہیں، اپنے مالک کی تعریف کرنے والے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۹۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سفر سے واپسی کی دعا اور اہل بیت کے ادب کا ذکر ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ خیبر سے واپسی کے سفر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر پیچھے بیٹھے تھے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ایک زوجہ محترمہ، صفیہ رضی اللہ عنہا، آپ صلى الله عليه وسلم کی سواری پر پیچھے تھیں۔ اونٹنی کو ٹھوکر لگی تو انس رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ عورت کی خبر لی جائے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہاری ماں ہیں۔ اس میں امہات المؤمنین کے احترام کی تعلیم ملتی ہے۔ پھر جب مدینہ قریب آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہم واپس آنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ یہ سفر کی دعا انسان کو واپس آتے وقت بھی اللہ کی یاد سے جوڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر سے واپسی پر اللہ کی حمد اور توبہ کے الفاظ کہنا مسنون عمل ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی ازواج مطہرات کو امت کی مائیں کہا گیا ہے۔
- سفر میں ساتھیوں کی خبرگیری اور مدد کا جذبہ ہونا چاہیے۔
- خوشی کے وقت بھی بندے کو عبادت اور شکر یاد رکھنا چاہیے۔
