صحیح بخاری حدیث ۵۹۷۵ - ماں کی نافرمانی اور فضول خرچی

ماں کی نافرمانی، فضول باتیں اور مال ضائع کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۷۵

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ ، وَمَنْعًا وَهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " .

مغیرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام قرار دی ہے اور (والدین کے حقوق) نہ دینا اور ناحق ان سے مطالبات کرنا بھی حرام قرار دیا ہے، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا (بھی حرام قرار دیا ہے) اور «قيل وقال» (فضول باتیں) کثرت سوال اور مال کی بربادی کو بھی ناپسند کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۹۷۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں چند بڑے اخلاقی اور معاشرتی نقصان دہ کاموں سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام کی ہے۔ اسی طرح حقوق روکنا، ناحق مطالبہ کرنا، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا بھی حرام قرار دیا گیا۔ پھر بتایا کہ اللہ نے قیل و قال یعنی فضول باتوں، کثرت سوال، اور مال کی بربادی کو ناپسند کیا ہے۔ اس حدیث میں ماں کے حق کو خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے، جو گھر کے اخلاق کی بنیاد ہے۔ ساتھ ہی انسان کو زبان، سوالات اور مال کے استعمال میں بھی سنجیدگی سکھائی گئی ہے۔ حدیث کا پیغام واضح ہے کہ مسلمان کا رویہ ذمہ دار، نرم، حق ادا کرنے والا اور فضول خرچی سے بچنے والا ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ماں کی نافرمانی سے بچنا ضروری ہے۔
  • دوسروں کے حقوق روکنا یا ناحق مانگنا غلط رویہ ہے۔
  • فضول باتوں اور بے فائدہ بحث سے بچنا چاہیے۔
  • مال کو ضائع کرنا ناپسندیدہ عمل ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں