صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۸ - والدین، حقوق اور مال کی حفاظت
حقوق العباد کی حدیث: مال ضائع کرنے اور حق روکنے سے بچو
صحیح بخاری : ۲۴۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۰۸
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَمَنَعَ وَهَاتِ ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تم پر ماں (اور باپ) کی نافرمانی لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا، (واجب حقوق کی) ادائیگی نہ کرنا اور (دوسروں کا مال ناجائز طریقہ پر) دبا لینا حرام قرار دیا ہے۔ اور فضول بکواس کرنے اور کثرت سے سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اہم باتیں بیان فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کی نافرمانی، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا، واجب حقوق ادا نہ کرنا اور دوسروں کا مال ناجائز طور پر دبا لینا حرام قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی فضول باتوں، بہت زیادہ سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو ناپسند فرمایا گیا۔ اس حدیث کا دائرہ گھر، معاشرہ اور مال سب کو شامل کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ دین صرف عبادت تک محدود نہیں، بلکہ والدین کا ادب، حق کی ادائیگی، زبان کی حفاظت اور مال کی قدر بھی اہم ہیں۔ حدیث میں جو باتیں آئی ہیں، انہی کے اندر رہتے ہوئے ہمیں اپنی زندگی کو درست کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ماں باپ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
- دوسروں کے حقوق روکنا سخت غلط کام ہے۔
- فضول باتیں اور بے فائدہ سوالات پسندیدہ نہیں۔
- مال کو ضائع کرنے کے بجائے سنبھال کر استعمال کرنا چاہیے۔
