صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۹ - ہر شخص ذمہ دار ہے
ذمہ داری کی حدیث: تم میں سے ہر شخص نگران ہے
صحیح بخاری : ۲۴۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۰۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا ، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " ، قَالَ : فَسَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
´ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، تم میں سے ہر فرد ایک طرح کا حاکم ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا۔ پس بادشاہ حاکم ہی ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا۔ ہر انسان اپنے گھر کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔انہوں نے بیان کیا کہ یہ سب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مرد اپنے والد کے مال کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ پس ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۹ کا خلاصہ
یہ حدیث ذمہ داری کے موضوع پر بہت واضح تعلیم دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ حکمران اپنی رعیت کا ذمہ دار ہے، آدمی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے، خادم اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے، اور روایت میں والد کے مال کے بارے میں مرد کی ذمہ داری کا بھی ذکر آیا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی دائرہ ہے، اور اس دائرے میں اسے امانت دار بننا ہے۔ گھر، مال، خاندان اور منصب سب کے بارے میں جواب دہی کا احساس ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر انسان اپنے دائرے میں ذمہ دار ہے۔
- گھر والوں کے حقوق کا خیال رکھنا لازم ہے۔
- مال کی نگرانی امانت ہے۔
- منصب یا اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی آتی ہے۔
