صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۷ - خرید و فروخت میں دھوکا نہیں

خرید و فروخت کی حدیث: لا خلابہ یعنی کوئی دھوکا نہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۰۷

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ ، فَقَالَ : إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ " ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ .

عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا کہ خرید و فروخت میں مجھے دھوکا دے دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب خرید و فروخت کیا کرو، تو کہہ دیا کر کہ کوئی دھوکا نہ ہو۔ چنانچہ پھر وہ شخص اسی طرح کہا کرتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ خرید و فروخت میں مجھے دھوکا دے دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سادہ سا طریقہ بتایا کہ جب خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو: کوئی دھوکا نہ ہو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع خرید و فروخت میں دھوکا سے بچنا ہے۔ یہاں لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک عملی جملہ سکھایا گیا ہے جو معاملے کو صاف کر دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمزور یا آسانی سے دھوکا کھا جانے والے شخص کے لیے شریعت میں سہولت اور رہنمائی ہے۔ کاروبار میں صاف گوئی، شرط کی وضاحت اور دوسرے کی کمزوری کا خیال رکھنا بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خرید و فروخت میں دھوکا منع ہے۔
  • معاملہ کرتے وقت اپنی شرط صاف کہنی چاہیے۔
  • کمزور خریدار کی رہنمائی کی گئی۔
  • کاروبار میں صاف گوئی اچھی عادت ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں