صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۲ - نومولود سے شفقت اور طہارت

نومولود کی تحنیک اور نرمی: بچے کے پیشاب کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۰۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَضَعَ صَبِيًّا فِي حَجْرِهِ يُحَنِّكُهُ فَبَالَ عَلَيْهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ (عبداللہ بن زبیر) کو اپنی گود میں بٹھلایا اور کھجور چبا کر اس کے منہ میں دی، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع نومولود سے شفقت اور طہارت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو اپنی گود میں بٹھایا اور کھجور چبا کر اس کے منہ میں دی۔ بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، تو آپ نے پانی منگوایا اور اس جگہ پر بہا دیا۔ اس روایت میں دو باتیں صاف نظر آتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو اپنے قریب رکھتے تھے اور ان کے ساتھ نرمی فرماتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ ناپاکی لگنے پر سادہ طریقے سے پانی بہا کر صفائی کی گئی۔ حدیث میں غیر ضروری سختی، ڈانٹ یا ناراضی کا ذکر نہیں، بلکہ نرمی اور طہارت دونوں ساتھ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نومولود بچے کے ساتھ نرمی اور قربت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
  • ناپاکی لگنے پر صفائی کا سادہ طریقہ اختیار کیا گیا۔
  • بچوں کی غیر ارادی حرکت پر سختی نہیں کی گئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں