صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۳ - بچوں کے لیے دعا اور شفقت
بچوں کے لیے دعا: اسامہ اور حسن رضی اللہ عنہما کا واقعہ
صحیح بخاری : ۶۰۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۰۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، يُحَدِّثُهُ أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى ، ثُمَّ يَضُمُّهُمَا ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا " ، وَعَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ التَّيْمِيُّ : فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مِنْهُ شَيْءٌ قُلْتُ : حَدَّثْتُ بِهِ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي عُثْمَانَ ، فَنَظَرْتُ فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي مَكْتُوبًا فِيمَا سَمِعْت .
اسامہ بن زید روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی ایک ران پر بٹھاتے تھے اور حسن رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھلاتے تھے۔ پھر دونوں کو ملاتے اور فرماتے، اے اللہ! ان دونوں پر رحم کر کہ میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں۔ اور علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اسی حدیث کو بیان کیا۔سلیمان تیمی نے کہا جب ابو تمیمہ نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی ابوعثمان نہدی سے تو میرے دل میں شک پیدا ہوا۔ میں نے ابوعثمان سے بہت سی احادیث سنی ہیں پر یہ حدیث کیوں نہیں سنی پھر میں نے اپنی احادیث کی کتاب دیکھی تو اس میں یہ حدیث ابوعثمان نہدی سے لکھی ہوئی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع بچوں سے محبت اور ان کے لیے دعا ہے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی ایک ران پر بٹھاتے اور حسن رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھاتے۔ پھر دونوں کو اپنے ساتھ ملا لیتے اور دعا کرتے کہ اے اللہ! ان دونوں پر رحم فرما، کیونکہ میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں۔ اس حدیث میں بچوں کو قریب بٹھانا، سینے سے لگانا اور ان کے لیے دعا کرنا واضح طور پر آیا ہے۔ یہ صرف جذباتی محبت نہیں، بلکہ رحمت کی دعا کے ساتھ تربیتی انداز بھی ہے۔ اس میں بڑوں کے لیے سبق ہے کہ بچے محبت، وقت، قربت اور دعا سب کے محتاج ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں کو قریب بٹھانا اور پیار دینا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- بچوں کے لیے رحمت کی دعا کرنی چاہیے۔
- شفقت صرف لفظوں سے نہیں، عمل سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
