صحیح بخاری حدیث ۶۰۱ - سو سال والی حدیث کی درست سمجھ
سو سال والی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان کی صحیح سمجھ
صحیح بخاری : ۶۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۱
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ ، فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ ، يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی اپنی زندگی کے آخری زمانے میں۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اس رات کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے؟ آج اس روئے زمین پر جتنے انسان زندہ ہیں۔ سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنے میں غلطی کی اور مختلف باتیں کرنے لگے۔ (ابومسعود رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ سو برس بعد قیامت آئے گی) حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد صرف یہ تھا کہ جو لوگ آج (اس گفتگو کے وقت) زمین پر بستے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی آج سے ایک صدی بعد باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ سو برس میں یہ قرن گزر جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عمر، نسل اور بات کو صحیح سمجھنا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عشاء کی نماز کے بعد صحابہ سے فرمایا کہ آج اس زمین پر جو لوگ زندہ ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ بعض لوگوں نے اس بات کو قیامت کے آنے سے جوڑ دیا، مگر روایت میں صاف وضاحت ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت موجود لوگ ایک صدی کے اندر گزر جائیں گے۔ اس لیے سو سال والی حدیث کو سمجھتے وقت الفاظ کے ساتھ روایت کی وضاحت بھی دیکھی جائے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دینی بات سن کر جلدی نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات کو اسی معنی میں سمجھنا چاہیے جو روایت میں واضح ہو۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان کی غلط تشریح سے بچنا ضروری ہے۔
- انسانی عمر محدود ہے، اس لیے وقت کی قدر کرنی چاہیے۔
