صحیح بخاری حدیث ۶۰۰ - نماز کے انتظار میں رہنا بھی نماز کی حالت
نماز کے انتظار کی فضیلت: انتظار بھی عبادت کا حصہ
صحیح بخاری : ۶۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قال : انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ ، وَرَاثَ عَلَيْنَا حَتَّى قَرُبْنَا مِنْ وَقْتِ قِيَامِهِ فَجَاءَ ، فَقَالَ : دَعَانَا جِيرَانُنَا هَؤُلَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : انتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ يَبْلُغُهُ ، فَجَاءَ فَصَلَّى لَنَا ثُمَّ خَطَبَنَا ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا ثُمَّ رَقَدُوا ، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ " ، قَالَ الْحَسَنُ : وَإِنَّ الْقَوْمَ لَا يَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا انْتَظَرُوا الْخَيْرَ ، قَالَ قُرَّةُ : هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
قرہ بن خالد سدوسی روایت:
ایک دن حسن بصری رحمہ اللہ نے بڑی دیر کی۔ اور ہم آپ کا انتظار کرتے رہے۔ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب ہو گیا تو آپ آئے اور (بطور معذرت) فرمایا کہ میرے ان پڑوسیوں نے مجھے بلا لیا تھا (اس لیے دیر ہو گئی) پھر بتلایا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہم ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے۔ تقریباً آدھی رات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ اس کے بعد خطبہ دیا۔ پس آپ نے فرمایا کہ دوسروں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے۔ لیکن تم لوگ جب تک نماز کے انتظار میں رہے ہو گویا نماز ہی کی حالت میں رہے ہو۔امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی خیر کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو وہ بھی خیر کی حالت ہی میں ہیں۔ قرہ بن خالد نے کہا کہ حسن کا یہ قول بھی انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا ہے جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ صحابہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، نماز پڑھائی اور فرمایا کہ لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، لیکن تم لوگ جب تک نماز کے انتظار میں رہے، گویا نماز ہی کی حالت میں رہے۔ حدیث کے آخر میں حسن بصری رحمہ اللہ کا قول بھی نقل ہوا کہ لوگ جب تک خیر کے انتظار میں بیٹھے رہیں، خیر ہی میں رہتے ہیں۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز کے انتظار کی فضیلت ہے۔ اس سے نماز کے لیے صبر، جماعت کے ساتھ وابستگی اور خیر کے انتظار کی قدر سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے انتظار کو نماز کی حالت سے تشبیہ دی گئی ہے۔
- صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا، پھر نماز ادا کی۔
- انتظار میں رہنے والوں کے لیے خیر کا معنی روایت میں بیان ہوا ہے۔
- نماز کے لیے صبر اور بیٹھے رہنا بے فائدہ نہیں بتایا گیا۔
