صحیح بخاری حدیث ۵۹۹ - نبی صلى الله عليه وسلم کے فرض نمازوں کے اوقات

نبی کریم صلى الله عليه وسلم فرض نمازیں کن اوقات میں پڑھتے تھے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۹

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمِنْهَالِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ لَهُ : أَبِي حَدِّثْنَا ، " كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ؟ قَالَ : كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، قَالَ : وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ ، قَالَ : وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " .

ابوالمنہال سیار بن سلامہ روایت:

میں اپنے باپ سلامہ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان سے میرے والد صاحب نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کس طرح (یعنی کن کن اوقات میں) پڑھتے تھے۔ ہم سے اس کے بارے میں بیان فرمائیے۔انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هجير» (ظہر) جسے تم صلوٰۃ اولیٰ کہتے ہو سورج ڈھلتے ہی پڑھتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عصر پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے گھر واپس ہوتا اور وہ بھی مدینہ کے سب سے آخری کنارہ پر تو سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا۔مغرب کے بارے میں آپ نے جو کچھ بتایا مجھے یاد نہیں رہا۔ اور فرمایا کہ عشاء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاخیر پسند فرماتے تھے۔ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ صبح کی نماز سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو ہم اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کس طرح پڑھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھلتے ہی پڑھتے تھے۔ عصر اس وقت پڑھتے کہ آدمی مدینہ کے آخری کنارے اپنے گھر لوٹتا تو سورج صاف اور روشن ہوتا۔ عشاء کے بارے میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مؤخر کرنا پسند فرماتے تھے، اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ فجر سے فارغ ہوتے تو قریب بیٹھے شخص کو پہچانا جا سکتا تھا، اور فجر میں ساٹھ سے سو آیتیں پڑھتے تھے۔ یہ حدیث اوقات نماز کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظہر سورج ڈھلتے ہی پڑھنے کا ذکر ہے۔
  • عصر ایسے وقت پڑھی جاتی کہ سورج ابھی روشن ہوتا۔
  • عشاء میں تاخیر پسند فرمانے کا ذکر آیا ہے۔
  • فجر میں ساٹھ سے سو آیات پڑھنے کا بیان ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں