صحیح بخاری حدیث ۵۹۸ - غزوہ خندق میں عصر کے بعد مغرب
خندق کا واقعہ: عصر رہ گئی تو غروب کے بعد ادا کی گئی
صحیح بخاری : ۵۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ ، قَالَ : " جَعَلَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَسُبُّ كُفَّارَهُمْ ، وَقَالَ : مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى غَرَبَتْ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَصَلَّى بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ " .
جابر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک دن) کفار کو برا بھلا کہنے لگے۔ فرمایا کہ سورج غروب ہو گیا، لیکن میں (لڑائی کی وجہ سے) نماز عصر نہ پڑھ سکا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم وادی بطحان کی طرف گئے۔ اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز) غروب شمس کے بعد پڑھی اس کے بعد مغرب پڑھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۸ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کفار کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ سورج غروب ہو گیا، مگر میں لڑائی کی وجہ سے عصر نہ پڑھ سکا۔ پھر سب وادی بطحان کی طرف گئے۔ وہاں غروب شمس کے بعد عصر کی نماز پڑھی گئی، اس کے بعد مغرب پڑھی گئی۔ یہ روایت قضا عصر کے بارے میں اسی واقعے کا ایک مختصر بیان ہے۔ متن میں لڑائی کی مصروفیت، عصر کا رہ جانا، وادی بطحان جانا، پھر عصر اور مغرب کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز رہ جانے کے بعد اسے ادا کرنے کا اہتمام کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لڑائی کی وجہ سے عصر رہ جانے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
- غروب کے بعد عصر ادا کی گئی۔
- عصر کے بعد مغرب پڑھی گئی، یعنی ترتیب کا ذکر واضح ہے۔
- نماز رہ جائے تو اسے ادا کرنے کا اہتمام روایت میں موجود ہے۔
