صحیح بخاری حدیث ۶۰۳ - اذان اور اقامت کا طریقہ

اذان کا طریقہ: کلمات دو دو بار اور اقامت ایک ایک بار

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۳

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ ، فَذَكَرُوا الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى ، : ذَكَرُوا النَّارَ " فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ " .

انس روایت:

نماز کے وقت کے اعلان کے لیے) لوگوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا۔ پھر یہود و نصاریٰ کا ذکر آ گیا۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت میں ایک ایک مرتبہ۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع اذان اور اقامت کا طریقہ ہے۔ نماز کے وقت اعلان کے لیے لوگوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا، پھر یہود و نصاریٰ کے طریقوں کا بھی ذکر ہوا۔ آخر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہیں۔ اس سے اذان کی حدیث میں ایک صاف عملی بات ملتی ہے کہ نماز کے اعلان کا ایک مستقل اسلامی طریقہ مقرر ہوا۔ یہاں حدیث صرف کلمات کی تکرار کے طریقے کو بیان کرتی ہے، اس لیے اسی حد تک بات رکھنی چاہیے۔ اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کے لیے پکارنا ہے، اور اقامت نماز کے شروع ہونے کا اعلان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اذان نماز کے وقت کا واضح اعلان ہے۔
  • اقامت کا طریقہ اذان سے الگ انداز رکھتا ہے۔
  • دینی عمل میں نبی صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں