صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۰ - مبالغہ آمیز تعریف سے بچنے کی حدیث

مبالغہ آمیز تعریف: انسان کی کمر توڑنے والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۶۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ ، فَقَالَ : " أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور تعریف میں بہت مبالغہ سے کام لے رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ہلاک کر دیا یا (یہ فرمایا کہ) تم نے اس شخص کی کمر کو توڑ دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں کسی کی تعریف میں حد سے بڑھ جانے سے منع کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی بہت زیادہ تعریف کرتے سنا۔ تعریف میں مبالغہ تھا، یعنی بات حد سے بڑھ رہی تھی۔ اس پر نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ہلاک کر دیا، یا فرمایا کہ تم نے اس شخص کی کمر توڑ دی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بے قابو تعریف انسان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے غرور، خود پسندی یا غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ تعریف اگر کرنی ہو تو سچی، مناسب اور محتاط ہونی چاہیے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ زبان سے صرف برائی ہی نقصان نہیں دیتی، بے جا تعریف بھی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تعریف میں مبالغہ نہیں کرنا چاہیے۔
  • حد سے بڑھی ہوئی تعریف انسان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
  • کسی کی خوبی بیان کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
  • زبان کا استعمال برائی اور بے جا تعریف دونوں میں سنبھال کر کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں