صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۳ - بنو نجار کی فضیلت
بنو نجار کی فضیلت: انصار کے بہترین گھرانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۵۳
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ " .
ابواسید ساعدی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قبیلہ انصار میں سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۳ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث انصار کے ایک گھرانے، بنو نجار، کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انصار میں سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں، اس لیے اس میں اسی بات کو اصل رکھا جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انصار کے گھروں میں بنو نجار کو خیر کے ساتھ یاد فرمایا۔ اس حدیث سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کی اچھائی کو پہچانا اور مناسب موقع پر اس کا ذکر فرمایا۔ کسی خاندان یا گروہ کی تعریف تب درست ہے جب وہ حق اور عدل کے ساتھ ہو، نہ کہ بے جا تعصب کے طور پر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بنو نجار کے گھرانے کی فضیلت بیان فرمائی۔
- اچھائی کو پہچان کر اس کا ذکر کرنا درست ہے۔
- تعریف حق کے ساتھ ہو تو اس میں خیر ہو سکتی ہے۔
- فضیلت کا بیان بے جا تعصب کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔
