صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۰ - غلاموں اور ماتحتوں کے حقوق

ماتحتوں کے حقوق: بھائیوں جیسا برتاؤ کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۵۰

حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدًا ، فَقُلْتُ : لَوْ أَخَذْتَ هَذَا فَلَبِسْتَهُ كَانَتْ حُلَّةً وَأَعْطَيْتَهُ ثَوْبًا آخَرَ ، فَقَالَ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلَامٌ وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً ، فَنِلْتُ مِنْهَا فَذَكَرَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي : " أَسَابَبْتَ فُلَانًا ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ " قُلْتُ عَلَى حِينِ سَاعَتِي : هَذِهِ مِنْ كِبَرِ السِّنِّ ، قَالَ : " نَعَمْ ، هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ ، وَلَا يُكَلِّفُهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ " .

معرور روایت:

میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ (غلام بھی) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہئے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۰ کا خلاصہ

یہ حدیث ماتحتوں، خادموں اور کمزور لوگوں کے ساتھ انصاف کا واضح سبق دیتی ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بات باقی ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جو لوگ تمہاری ماتحتی میں ہیں، وہ تمہارے بھائی ہیں۔ جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو، اسے چاہیے کہ جو خود کھائے اسے بھی کھلائے، جو خود پہنے اسے بھی پہنائے۔ اگر اسے ایسا کام دے جو اس کے بس سے بڑھ جائے تو اس کی مدد کرے۔ اس حدیث میں نسل، زبان، خاندان یا ماں کی وجہ سے طعنہ دینے کی ممانعت بھی ہے اور ماتحت کے ساتھ اچھے سلوک کی عملی تعلیم بھی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کو اس کی ماں، نسل یا زبان کی وجہ سے طعنہ دینا جاہلیت کی بات ہے۔
  • ماتحت لوگوں کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کرنا چاہیے۔
  • خادم یا ماتحت کو کھانے اور پہننے میں مناسب خیال دینا چاہیے۔
  • طاقت سے بڑھ کر کام دیا جائے تو اس کی مدد بھی کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں