صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۶ - ان شاء اللہ اور حکمت والا فیصلہ
ان شاء اللہ کی حدیث: فیصلہ، صبر اور حکمت
صحیح بخاری : ۶۰۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ قَالَ : " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ " قَالَ : فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا وَكَثُرَ فِيهِمُ الْجِرَاحَاتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " قَالَ : فَسَكَتُوا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِالْخَبَرِ كُلِّهِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے (فتح مکہ کے بعد) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند «خبر.» کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنے ارادے کو اللہ کی مشیت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے طائف کے موقع پر فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم کل واپس ہوں گے۔ کچھ صحابہ نے فتح تک ٹھہرنے کی بات کی، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں اگلے دن لڑنے کی اجازت دی۔ جب سخت لڑائی ہوئی اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ وہی فرمایا کہ ان شاء اللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ اس بار سب خاموش رہے اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم مسکرا دیئے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دینی قیادت میں ضد نہیں، حکمت، تجربہ اور اللہ پر اعتماد ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ کہنا صرف لفظ نہیں بلکہ بندے کی عاجزی اور اللہ کے فیصلے کو ماننے کا انداز ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر منصوبے کو اللہ کی مشیت کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔
- جوش کے ساتھ ساتھ نتیجے اور نقصان کو بھی دیکھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ نرم، حکیمانہ اور حالات کے مطابق تھا۔
- مسلمان کو تجربے کے بعد حق بات پر خاموشی سے رجوع کر لینا چاہیے۔
