صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۷ - رمضان میں غلطی اور کفارہ

رمضان کے روزے کا کفارہ: آسان فہم حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸۷

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هَلَكْتُ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ : لَيْسَ لِي ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : لَا أَجِدُ ، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : الْعَرَقُ الْمِكْتَلُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ تَصَدَّقْ بِهَا " قَالَ : عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي ، وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ : " فَأَنْتُمْ إِذًا " .

ابوہریرہ روایت:

ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں تو تباہ ہو گیا اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں (روزہ کی حالت میں) ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس کوئی غلام نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے روزے رکھ۔ انہوں نے عرض کیا: اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔بیان کیا کہ پھر کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ «عرق» ایک طرح کا (نو کلوگرام کا) ایک پیمانہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ لو اسے صدقہ کر دینا۔ انہوں نے عرض کیا مجھ سے جو زیادہ محتاج ہو اسے دوں؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک کھل گئے، اس کے بعد فرمایا کہ اچھا پھر تو تم میاں بیوی ہی اسے کھا لو۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۷ کا خلاصہ

یہ حدیث رمضان کے روزے، غلطی کے اعتراف اور کفارہ کے بارے میں بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔ ایک شخص نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ وہ تباہ ہو گیا، کیونکہ اس نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے غلام آزاد کرنے کا حکم دیا، اس کے پاس غلام نہ تھا۔ پھر دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کا فرمایا، اس نے طاقت نہ ہونے کا بتایا۔ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا فرمایا، اس کے پاس اس کی بھی گنجائش نہ تھی۔ جب کھجوریں آئیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے صدقہ کرنے کو کہا، مگر اس نے اپنی محتاجی بتائی۔ آخر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم ہی اسے کھا لو۔ یہ حدیث کفارہ، سچ بولنے اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی شفقت کو صاف دکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رمضان کے روزے کی حرمت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • غلطی ہو جائے تو اسے چھپانے کے بجائے شرعی رہنمائی لینی چاہیے۔
  • کفارہ استطاعت کے مطابق مرحلہ وار بتایا گیا۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سوال کرنے والے کی مجبوری کو سنا اور نرمی فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں