صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۳ - بارش کی دعا اور قبولیت
بارش کی دعا کی حدیث: اللهم حوالينا ولا علينا
صحیح بخاری : ۶۰۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۹۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : قَحَطَ الْمَطَرُ فَاسْتَسْقِ رَبَّكَ ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا نَرَى مِنْ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَى ، فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مُطِرُوا ، حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ فَمَا زَالَتْ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ ، ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : غَرِقْنَا فَادْعُ رَبَّكَ يَحْبِسْهَا عَنَّا ، فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطَرُ مَا حَوَالَيْنَا وَلَا يُمْطِرُ مِنْهَا شَيْءٌ ، يُرِيهِمُ اللَّهُ كَرَامَةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِجَابَةَ دَعْوَتِهِ " .
انس روایت:
ایک صاحب جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے عرض کیا بارش کا قحط پڑ گیا ہے، آپ اپنے رب سے بارش کی دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا کہیں ہمیں بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر آپ نے بارش کی دعا کی، اتنے میں بادل اٹھا اور بعض ٹکڑے بعض کی طرف بڑھے اور بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ مدینہ کے نالے بہنے لگے۔اگلے جمعہ تک اسی طرح بارش ہوتی رہی سلسلہ ٹوٹتا ہی نہ تھا چنانچہ وہی صاحب یا کوئی دوسرے (اگلے جمعہ کو) کھڑے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے عرض کیا: ہم ڈوب گئے، اپنے رب سے دعا کریں کہ اب بارش بند کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔دو یا تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، چنانچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹنے لگے، بائیں اور دائیں، ہمارے چاروں طرف دوسرے مقامات پر بارش ہونے لگی اور ہمارے یہاں بارش یکدم بند ہو گئی۔ یہ اللہ نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی کرامت اور دعا کی قبولیت بتلائی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں جمعہ کے خطبے کے دوران ایک شخص نے بارش نہ ہونے کی شکایت کی اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے دعا کی درخواست کی۔ آسمان پر بادل نظر نہیں آ رہا تھا، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے دعا کی تو بادل اٹھے، بارش ہوئی اور مدینہ کے نالے بہنے لگے۔ بارش اگلے جمعہ تک جاری رہی۔ پھر اسی شخص یا کسی دوسرے نے عرض کیا کہ ہم ڈوب گئے، دعا کریں کہ بارش ہم سے رک جائے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔ پھر بادل مدینہ سے ہٹ گئے اور آس پاس بارش ہوتی رہی۔ یہ حدیث دعا، اللہ کی قدرت، قحط میں دعا اور ضرورت بدلنے پر مناسب دعا کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں اللہ سے دعا کی جاتی ہے۔
- ضرورت بدل جائے تو دعا کا انداز بھی بدل سکتا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بارش بند کرنے کے بجائے اسے اردگرد منتقل ہونے کی دعا کی۔
- خطبہ کے دوران لوگوں کی واقعی ضرورت پر توجہ دی گئی۔
