صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۲ - نبی صلى الله عليه وسلم کا تبسم

نبی صلى الله عليه وسلم کا تبسم: باوقار مسکراہٹ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۹۲

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کھل کر کبھی ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آنے لگتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکراتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۲ کا خلاصہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو کبھی اس طرح کھل کر ہنستے نہیں دیکھا کہ حلق کا اندرونی حصہ نظر آنے لگے، بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم صرف مسکراتے تھے۔ یہ حدیث نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے مزاج، وقار اور نرم انداز کو بیان کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خوشی ممنوع ہے، بلکہ اس روایت میں خاص طور پر آپ صلى الله عليه وسلم کے عمومی انداز کا ذکر ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی ہنسی حد سے بڑھی ہوئی نہ ہوتی تھی۔ مسکراہٹ کی حدیث کے طور پر یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ خوش مزاجی اور وقار ساتھ ساتھ ہو سکتے ہیں۔ مسلمان کے لیے اس میں ایک نرم سبق ہے کہ خوشی کا اظہار بھی شائستہ اور باوقار انداز میں کیا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا عام انداز کھلکھلا کر ہنسنے کے بجائے تبسم تھا۔
  • خوشی کا اظہار وقار کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔
  • چہرے کی نرمی اور مسکراہٹ اچھے اخلاق کا حصہ ہے۔
  • حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ذاتی انداز کا مشاہدہ بیان ہوا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں