صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۱ - عورت کے احتلام پر غسل
عورت کے احتلام پر غسل: آسان حدیثی رہنمائی
صحیح بخاری : ۶۰۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۹۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ " فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَبِمَ شَبَهُ الْوَلَدِ " .
ام سلمہ روایت:
ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ حق سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب عورت پانی دیکھے (تو اس پر غسل واجب ہے) اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہنسیں اور عرض کیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بچہ کی صورت ماں سے کیوں ملتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک ایسا سوال پوچھا جس میں شرم کا پہلو تھا، مگر انہوں نے پہلے کہا کہ اللہ حق بات سے نہیں شرماتا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر عورت کو احتلام ہو تو کیا اس پر غسل ہے؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ ہاں، جب وہ پانی دیکھے۔ اس کے بعد ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تعجب کیا کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جواب میں بچے کی مشابہت کی طرف اشارہ فرمایا۔ اس حدیث کا اصل موضوع غسل، پاکی اور دینی مسئلہ پوچھنے کا ادب ہے۔ اس میں یہ بات صاف ہے کہ دین کے ضروری مسائل میں درست سوال کرنا عیب نہیں، خاص طور پر جب مقصد علم اور عمل ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی ضرورت کے مسئلے میں شرم کی وجہ سے سوال نہیں چھوڑنا چاہیے۔
- عورت کے احتلام پر غسل پانی دیکھنے کی صورت میں واجب بتایا گیا۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سوال کا مختصر اور واضح جواب دیا۔
- علم حاصل کرنے کے لیے ادب کے ساتھ سوال کرنا درست ہے۔
