صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۰ - ثبات اور ہدایت کی دعا
ثبات اور ہدایت کی دعا: اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
صحیح بخاری : ۶۰۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۹۰
وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا " .
´میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ` میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ پاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور دعا کی «اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا» ”اے اللہ! اسے ثبات فرما، اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اپنی کمزوری بیان کی کہ وہ گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ پاتے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اسے ثابت قدم فرما، اسے ہدایت دینے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا۔ اس حدیث میں دو اہم باتیں صاف نظر آتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ صحابہ اپنی عملی کمزوری بھی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے بیان کرتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے صرف جسمانی ثبات کی دعا نہیں کی بلکہ ہدایت اور دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بننے کی دعا بھی فرمائی۔ یہ دعا اعتماد، ثبات، ہدایت اور دینی خیر کا جامع پیغام رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنی کمزوری کو درست رہنمائی کے لیے بیان کرنا درست ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جسمانی ثبات کے ساتھ دینی ہدایت کی دعا فرمائی۔
- ہدایت یافتہ ہونا اور دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بننا بڑی نعمت ہے۔
- دعا میں دنیاوی ضرورت اور دینی بھلائی دونوں مانگی جا سکتی ہیں۔
