صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۹ - ملاقات میں مسکراہٹ

مسکراہٹ کی حدیث: ملاقات کا نبوی انداز

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸۹

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي .

جریر روایت:

جب سے میں نے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے پاس آنے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا تو مسکرائے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۹ کا خلاصہ

حضرت جریر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا، نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں اپنے پاس آنے سے کبھی نہیں روکا، اور جب بھی آپ صلى الله عليه وسلم انہیں دیکھتے تو مسکرا دیتے۔ یہ حدیث مختصر ہے، مگر اخلاق کے باب میں بہت مؤثر ہے۔ اس میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم لوگوں سے ملتے وقت چہرے پر نرمی رکھتے تھے۔ مسکراہٹ صرف خوشی کا اظہار نہیں، بلکہ دوسرے شخص کو عزت، قبولیت اور قرب کا احساس دیتی ہے۔ اس روایت میں خاص طور پر حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے حسن سلوک کا ذکر ہے، اس لیے اسی حد تک بات رکھنی چاہیے۔ یہ حدیث ملاقات، خوش اخلاقی اور نرم چہرے کی اہمیت بتاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ملاقات میں مسکراہٹ دوسرے کے دل کو نرم کرتی ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنے صحابی کو آنے سے نہیں روکتے تھے۔
  • اچھا برتاؤ صرف الفاظ سے نہیں، چہرے کے انداز سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
  • مسلمان کو لوگوں سے ملتے وقت نرم اور خوش اخلاق ہونا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں