صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۹ - اللہ کا صبر اور رزق

اللہ کا صبر: بندوں کی غلط بات کے باوجود رزق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۹۹

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ أَوْ لَيْسَ شَيْءٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص بھی یا کوئی چیز بھی تکلیف برداشت کرنے والی، جو اسے کسی چیز کو سن کر ہوئی ہو، اللہ سے زیادہ (صبر کرنے والا) نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں تندرستی دیتا ہے بلکہ انہیں روزی بھی دیتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۰۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا نہیں۔ لوگ اللہ کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں، پھر بھی اللہ انہیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کا حلم، صبر اور رزق ہے۔ یہاں بندے کی نافرمانی یا غلط عقیدے کا ذکر ہے، اور اس کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے عافیت اور روزی دینے کا بیان ہے۔ اس سے ہمیں اللہ کی بے مثال بردباری کا اندازہ ہوتا ہے، مگر اس سے غلط بات کی اجازت نہیں نکلتی۔ روایت کا پیغام یہ ہے کہ اللہ بندوں کی سخت غلط بات کے باوجود فوراً رزق روک نہیں دیتا، بلکہ انہیں مہلت اور نعمت دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ بندوں کی تکلیف دہ باتوں پر بھی بے مثال صبر فرماتا ہے۔
  • غلط عقیدہ اور غلط بات بہت سنگین معاملہ ہے۔
  • اللہ رزق اور عافیت دینے والا ہے۔
  • نعمت ملنا غلط بات کی منظوری نہیں سمجھنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں