صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۸ - اللہ کا صبر اور رزق
اللہ کے صبر، عافیت اور رزق کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۳۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۷۸
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللَّهِ يَدَّعُونَ لَهُ الْوَلَدَ ، ثُمَّ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے، کم بخت مشرک کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور پھر بھی وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں روزی دیتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں۔ لوگ اللہ کے لیے اولاد کا دعویٰ کرتے ہیں، پھر بھی اللہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں روزی دیتا ہے۔ اس حدیث کا موضوع اللہ کا صبر، اس کی بردباری، عافیت اور رزق ہے۔ متن میں یہ بات صاف ہے کہ اللہ کے بارے میں نہایت غلط بات کہنے والوں کو بھی دنیا میں رزق دیا جاتا ہے۔ اس سے بندے کو اپنی زبان اور عقیدے کے بارے میں بہت محتاط ہونا چاہیے۔ اللہ کی طرف اولاد منسوب کرنا باطل بات ہے، اور حدیث میں اسی تکلیف دہ قول کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ بندوں کو فوراً محروم نہیں کر دیتا، بلکہ انہیں عافیت اور رزق دیتا ہے۔ یہ بات انسان کو اللہ کی عظمت اور اپنی کمزوری یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے بارے میں غلط عقیدہ اور غلط بات بہت سنگین معاملہ ہے۔
- اللہ کی بردباری بندوں کی برداشت سے کہیں بڑھ کر ہے۔
- اللہ ان لوگوں کو بھی رزق دیتا ہے جو اس کے بارے میں غلط بات کہتے ہیں۔
- زبان اور عقیدہ دونوں کی حفاظت ضروری ہے۔
