صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۷ - صبر، آنسو اور رحمت
مصیبت میں صبر اور آنسو کو رحمت کہنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۳۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۷۷
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَسُولُ إِحْدَى بَنَاتِهِ يَدْعُوهُ إِلَى ابْنِهَا فِي الْمَوْتِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ إِلَيْهَا فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى ، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " ، فَأَعَادَتِ الرَّسُولَ أَنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَدُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَيْهِ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذَا ؟ ، قَالَ : هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
اسامہ بن زید روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کی ایک صاحبزادی زینب کے بھیجے ہوئے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان کے لڑکے جاں کنی میں مبتلا ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم جا کر انہیں بتا دو کہ اللہ ہی کا سب مال ہے جو چاہے لے لے اور جو چاہے دیدے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے پس ان سے کہو کہ صبر کریں اور اس پر صبر ثواب کی نیت سے کریں۔صاحبزادی نے دوبارہ آپ کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ سعد بن معاذ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی کھڑے ہوئے (پھر جب آپ صاحبزادی کے گھر پہنچے تو) بچہ آپ کو دیا گیا اور اس کی سانس اکھڑ رہی تھی جیسے پرانی مشک کا حال ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کے بچے کی جاں کنی کا واقعہ ہے۔ پیغام آیا کہ بچہ موت کے قریب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب بھیجا کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کے لیے اس کے ہاں وقت مقرر ہے؛ انہیں کہو صبر کریں اور ثواب کی نیت رکھیں۔ پھر جب دوبارہ بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ بچہ آپ کو دیا گیا، اس کی سانس اکھڑ رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے، اور اللہ اپنے رحم دل بندوں پر رحم کرتا ہے۔ اس حدیث میں صبر، آنسو، رحمت اور اللہ کی ملکیت کا بہت صاف سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصیبت میں اللہ کی ملکیت اور فیصلے کو یاد رکھنا چاہیے۔
- صبر کے ساتھ ثواب کی نیت بھی مطلوب ہے۔
- غم میں آنسو آنا بے صبری نہیں، دل کی رحمت بھی ہو سکتا ہے۔
- اللہ اپنے رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے۔
