صحیح بخاری حدیث ۶۱۰ - اذان مسلمان آبادی کی علامت
اذان مسلمان آبادی کی پہچان: خیبر کے واقعہ سے سبق
صحیح بخاری : ۶۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلًا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، قَالَ : فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
انس روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر کہیں جہاد کے لیے تشریف لے جاتے، تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے تھے۔ صبح ہوتی اور پھر آپ انتظار کرتے اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ کا ارادہ ترک کر دیتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنائی دیتی تو حملہ کرتے تھے۔انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم خیبر کی طرف گئے اور رات کے وقت وہاں پہنچے۔ صبح کے وقت جب اذان کی آواز نہیں سنائی دی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھ گئے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گیا۔ چلنے میں میرے قدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سے چھو چھو جاتے تھے۔انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خبیر کے لوگ اپنے ٹوکروں اور کدالوں کو لیے ہوئے (اپنے کام کاج کو) باہر نکلے۔ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور چلا اٹھے کہ ” «محمد والله محمد» ( صلی اللہ علیہ وسلم) پوری فوج سمیت آ گئے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا «الله أكبر، الله أكبر» خیبر پر خرابی آ گئی۔ بیشک جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں اذان کو مسلمان آبادی کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر جہاد کے لیے جاتے تو فوراً حملہ نہیں کرتے تھے۔ صبح ہونے کا انتظار کرتے۔ اگر اذان کی آواز سنتے تو حملہ روک دیتے، اور اگر اذان نہ سنتے تو کارروائی کرتے۔ خیبر کے واقعہ میں بھی صبح اذان نہ سنائی دی تو آپ صلى الله عليه وسلم آگے بڑھے۔ جب خیبر کے لوگ اپنے کام کے اوزار لے کر نکلے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو لشکر سمیت دیکھا تو گھبرا گئے۔ یہ روایت خاص جنگی واقعہ بیان کرتی ہے، اس لیے اسے عام حالات پر بلا قید نہیں پھیلانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان مسلمان آبادی کی ایک واضح علامت تھی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم جلد بازی کے بجائے صبح تک انتظار کرتے تھے۔
- حدیث کو اس کے خاص واقعہ اور متن کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
