صحیح بخاری حدیث ۶۱۱ - اذان کا جواب کیسے دیں
اذان کا جواب: مؤذن کے الفاظ دہرانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ " .
ابو سعید خدری روایت:
جب تم اذان سنو تو جس طرح مؤذن کہتا ہے اسی طرح تم بھی کہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۱ کا خلاصہ
یہ حدیث اذان کا جواب دینے کے بارے میں بہت سادہ اور واضح حکم دیتی ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو جس طرح مؤذن کہتا ہے، تم بھی اسی طرح کہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان سننے والا صرف خاموش تماشائی نہیں رہتا، بلکہ وہ بھی مؤذن کے کلمات کے ساتھ اللہ کی بڑائی، توحید اور رسالت کی گواہی کو دہراتا ہے۔ اذان کا جواب دینے کی حدیث میں اصل بات یہی ہے کہ مؤذن کی پکار کا ادب کیا جائے اور اس کے الفاظ دہرائے جائیں۔ اس روایت میں مزید دعا یا تفصیل نہیں آئی، اس لیے اس جگہ اسی حکم پر بات رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان سن کر مؤذن کے الفاظ دہرانے چاہییں۔
- اذان سننا عبادت کے ماحول میں شریک ہونے کا موقع ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اذان کے جواب کا آسان طریقہ بتایا۔
