صحیح مسلم حدیث ۳۸۳ - دل کے اطمینان کا قرآنی ذکر

ولیطمئن قلبی: دل کی تسلی اور ایمان کی بات

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۳

وحَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ : وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ، قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى جَازَهَا .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں مذکورہ حدیث کی مثل مگر مالک کی سند سے جو روایت ہے اس میں لفظ ہیں کہ (یہ سوال اس لئے ہے) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے پھر باقی ساری آیت پڑھی۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ لفظ آیا ہے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال شک کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ دل کی مزید تسلی کے لیے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو پڑھا اور بات کو اسی قرآنی جملے کے ساتھ واضح کیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع اطمینان قلب ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ ایمان موجود تھا، مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مشاہدہ چاہا تاکہ دل کو مزید سکون ملے۔ اس روایت میں کسی نئے واقعے کی تفصیل نہیں، بلکہ اسی بات کی تاکید ہے کہ سوال کا مقصد یقین کو کمزور کرنا نہیں تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان کے ساتھ دل کی تسلی کی طلب اس روایت میں صاف لفظوں میں آئی ہے۔
  • قرآنی الفاظ کو سمجھنے میں حدیث نبوی اہم رہنمائی دیتی ہے۔
  • کسی نبی کے سوال کو بے ادبی یا کمزوری کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں