صحیح مسلم حدیث ۳۸۲ - حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اطمینان قلب

اطمینان قلب کی حدیث: یقین کے ساتھ دل کی تسلی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، إِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 ، قَالَ : وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ ، لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کو شک کیوں نہ ہو۔ جب ابراہیم علیہ السلام کو شک ہوا۔ انہوں نے کہا: اے پروردگار مجھ کو دکھلا دے تو کس طرح زندہ کرے گا مردوں کو؟ پروردگار نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں اس بات کا۔ ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کیوں نہیں، مجھ کو یقین ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کو اور زیادہ اطمینان ہو جائے۔ اور رحم کرے اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر وہ پناہ چاہتے تھے مضبوط، سخت کی۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنے دونوں رہتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے، تو فوراً بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سوال کا ذکر فرمایا جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ جواب میں فرمایا گیا کہ کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن دل کو زیادہ اطمینان چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال انکار کا نہیں تھا، بلکہ اطمینان قلب کے لیے تھا۔ اسی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت لوط علیہ السلام کے لیے رحمت کی دعا فرمائی اور حضرت یوسف علیہ السلام کے قید خانے والے واقعے کا ذکر کیا۔ یہ حدیث ایمان، یقین اور دل کی تسلی کے موضوع پر بہت اہم ہے، مگر اس کی بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہی تک رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال یقین کے انکار کے لیے نہیں بلکہ دل کے اطمینان کے لیے تھا۔
  • ایمان کے ساتھ دل کی مزید تسلی طلب کرنا اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقہ انبیاء علیہم السلام کا ذکر احترام اور رحمت کے ساتھ فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں