صحیح مسلم حدیث ۳۸۱ - کمزور ایمان والوں کی دلجوئی

تالیف قلب کی حدیث: عطیہ دینے میں نبوی حکمت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۱

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ هَذَا ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ، ثُمَّ قَالَ : أَقِتَالًا ، أَيْ سَعْدُ ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ .

محمد بن سعد روایت:

محمد بن سعد سے یہی حدیث روایت کی گئی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری گردن اور مونڈھے کی بیچ میں مارا اور فرمایا: ”کیا لڑتا ہے اے سعد! میں دیتا ہوں ایک آدمی کو۔“ (آخر تک

صحیح مسلم حدیث ۳۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے سوال کے جواب کا ایک حصہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن اور کندھے کے درمیان ہاتھ مار کر فرمایا کہ اے سعد، کیا لڑتے ہو؟ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ عطیہ ہمیشہ صرف ظاہری پسند یا ذاتی محبت کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ کبھی کسی کے دل کو اسلام پر قائم رکھنے، اس کی کمزوری کا لحاظ کرنے اور اس کے حال کے مطابق معاملہ کرنے کے لیے بھی دیا جاتا ہے۔ یہ تالیف قلب کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین میں لوگوں کے مزاج اور حالت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کسی کو کچھ ملنا یا نہ ملنا لازماً اس کے مقام کا آخری فیصلہ نہیں ہوتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی معاملے میں جلد بازی سے بحث بڑھانے کے بجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت کو سمجھنا چاہیے۔
  • کبھی عطیہ کسی کمزور ایمان والے کی دلجوئی کے لیے بھی دیا جا سکتا ہے۔
  • کسی شخص کے باطنی ایمان کا قطعی فیصلہ صرف ظاہری اندازے سے نہیں کیا جانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں