صحیح مسلم حدیث ۳۸۰ - چپکے سے سوال اور نبوی جواب
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تقسیم میں حکمت اور نرمی
صحیح مسلم : ۳۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۰
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَارَرْتُهُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ؟ .
سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا میں بیٹھا تھا۔ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح سے جیسے اوپر گزری۔ اتنا زیادہ ہے آخر میں اٹھا اور میں نے چپکے سے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا؟
صحیح مسلم حدیث ۳۸۰ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کا ایک اور بیان ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر گئے اور آہستہ سے پوچھا کہ آپ نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ سوال کرتے تھے، مگر ادب اور نرمی کے ساتھ۔ اصل مضمون وہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو دیا اور بعض کو نہیں دیا، حالانکہ کچھ لوگ آپ کو زیادہ محبوب بھی ہو سکتے تھے۔ آپ نے بتایا کہ دینے میں ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کمزور حال شخص کو دینی نقصان سے بچایا جائے۔ یہ حدیث الفاظ، سوال کے ادب، اور تقسیم کی حکمت تینوں باتیں سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے باطن پر قطعی حکم لگانے میں احتیاط چاہیے۔
- مومن اور مسلمان کے الفاظ میں فرق کا خیال رکھا گیا۔
- مال کی تقسیم کبھی دینی مصلحت کے لیے بھی ہوتی ہے۔
- سوال ادب اور نرمی سے کیا جا سکتا ہے۔
