صحیح بخاری حدیث ۲۷ - عطیہ دینے میں دینی حکمت
عطیہ دینے میں حکمت: مومن یا مسلمان؟
صحیح بخاری : ۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ : أَوْ مُسْلِمًا ، فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ : أَوْ مُسْلِمًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ ، فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي وَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا سَعْدُ ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ " ، وَرَوَاهُ يُونُسُ ، وَصَالِحٌ ، وَمَعْمَرٌ ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ عطیہ دیا اور سعد وہاں موجود تھے۔ (وہ کہتے ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہ دیا۔ حالانکہ وہ ان میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ میں اسے مومن گمان کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن یا مسلمان؟ میں تھوڑی دیر چپ رہ کر پھر پہلی بات دہرانے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سعد! باوجود یہ کہ ایک شخص مجھے زیادہ عزیز ہے (پھر بھی میں اسے نظر انداز کر کے) کسی اور دوسرے کو اس خوف کی وجہ سے یہ مال دے دیتا ہوں کہ (وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اسلام سے پھر جائے اور) اللہ اسے آگ میں اوندھا ڈال دے۔اس حدیث کو یونس، صالح، معمر اور زہری کے بھتیجے عبداللہ نے زہری سے روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو عطیہ دیا مگر ایک شخص کو نہ دیا، حالانکہ سعد رضی اللہ عنہ اسے زیادہ پسند کرتے تھے اور اسے مومن گمان کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن یا مسلمان؟ پھر آخر میں بتایا کہ میں کبھی ایک شخص کو دیتا ہوں حالانکہ دوسرا مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں وہ کمزوری کی وجہ سے آگ میں نہ ڈال دیا جائے۔ اس حدیث میں مومن اور مسلمان کا فرق، عطیہ دینے کی حکمت، دینی مصلحت اور لوگوں کے ظاہر و باطن کا معاملہ سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کو عطیہ دینا ہمیشہ ذاتی محبت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن اور مسلمان کے لفظ میں احتیاط سکھائی۔
- کبھی دینی مصلحت کے تحت ایسے شخص کو دیا جاتا ہے جسے سہارا چاہیے ہوتا ہے۔
- لوگوں کے دلوں کا آخری فیصلہ اللہ کے علم میں ہے۔
