صحیح بخاری حدیث ۲۶ - سب سے افضل عمل کون سا ہے
افضل عمل کی حدیث: ایمان، جہاد اور حج مبرور
صحیح بخاری : ۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا“ کہا گیا، اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“ کہا گیا، پھر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حج مبرور“۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک سیدھا سوال ہے کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کو سب سے افضل عمل بتایا۔ پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج مبرور۔ اس حدیث کی خاص بات یہ ہے کہ جواب ترتیب کے ساتھ دیا گیا ہے۔ اس میں افضل عمل، ایمان باللہ، جہاد فی سبیل اللہ اور حج مبرور جیسے سرچ کیے جانے والے الفاظ بہت نمایاں ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اعمال میں ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کو بنیادی مقام حاصل ہے۔
- حدیث میں جہاد فی سبیل اللہ کو ایمان کے بعد اہم عمل کے طور پر ذکر کیا گیا۔
- حج مبرور کو بھی بڑے نیک اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔
- دینی سوالات میں ترتیب سے جواب دینا سمجھنے والے کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔
