صحیح مسلم حدیث ۱۵۰ - گھر میں نماز کی جگہ مقرر کرنا
گھر میں نماز کی جگہ مقرر کرنے کا واقعہ
صحیح مسلم : ۱۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۰
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ عَمِيَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : تَعَالَ ، فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ .
انس روایت:
حدیث بیان کی مجھ سے عتبان بن مالک نے وہ اندھے ہو گئے تھے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہلا بھیجا کہ میرے مکان پر تشریف لائیے اور مسجد کی ایک جگہ مقرر کر دیجئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور لوگ آئے مگر ایک شخص غائب تھا، جس کو مالک بن دخشم کہتے تھے پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۰ کا خلاصہ
اس روایت میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ میرے گھر تشریف لائیے اور میرے لیے مسجد یعنی نماز کی جگہ مقرر کر دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے ساتھ اور لوگ بھی آئے۔ پھر ایک شخص کا ذکر ہوا جس کا نام مالک بن دخشم تھا، اور حدیث کو اسی طرح بیان کیا گیا جیسے پچھلی روایت میں گزرا۔ یہ روایت اصل واقعہ کی ایک اور سند ہے۔ اس میں گھر میں نماز کی جگہ مقرر کرنے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت، اور کلمہ پڑھنے والے کے بارے میں احتیاط کا مضمون ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت کے وقت گھر میں نماز کی جگہ مقرر کی جا سکتی ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی جائز درخواست قبول فرماتے تھے۔
- روایت کو دوسری سند سے نقل کرنا حدیث کی حفاظت کا حصہ ہے۔
- کلمہ پڑھنے والے کے بارے میں جلدی حکم لگانے سے بچنا چاہیے۔
